India

سوال # 155227

میرے والد کا نام سید واجد علی سبزواری ہے اور وہ اپنے پاس کی مسجد میں اذان دیتے تھے، مگر کچھ لوگوں نے ان کو اذان دینے سے روک دیا ہے یہ کہہ کرکہ اگر کسی شخص کی داڑھی نہ ہو تو وہ اذان نہیں دے سکتا، یہ اسلام میں حرام ہے، داڑھی رکھنا چونکہ سنت ہے، لیکن اگر کوئی داڑھی نہیں رکھتاہے کہ تو کیا وہ اذا ن نہیں دے سکتا؟براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Nov 1, 2017

جواب # 155227

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:53-56/sd=2/1439



داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے ، جب کہ اذان دینا عبادت ہونے کے ساتھ دین کا ایک اہم شعار ہے ،اسی وجہ سے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ فاسق کی اذان مکروہ ہوتی ہے ، لہٰذا صورتِ مذکورہ میں اگر آپ کے والد صاحب ڈاڑھی نہیں رکھتے ہیں، تو اُن کی اذان مکروہ ہوگی اوراُن کو اذان دینے سے روکنا درست ہوگا۔ ویکرہ أذان الفاسق ولایُعاد (فتاویٰ عالمگیری: ۱۱۰/۱، طبع: اتحاد)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات