India

سوال # 154898

مونچہوں کو تراش کر لبوں کے برابر کرنا سنت ہے ، لیکن میں نے سنا ہے کہ حضرت عمر کی مونچہیں بڑی بڑی تہیں، کیا میں نے صحیح سنا ہے ؟ کیا ہم بڑی مونچہیں رکھ سکتے ہیں؟

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 154898

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:7-3/L=1/1439



مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اُن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔حضرت عمر مونچھیں بڑی بڑی نہیں رکھتے تھے؛بلکہ ان کی مونچھیں بھی سنت کے مطابق چھوٹی ہواکرتی تھیں ؛البتہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال نہیں تراشتے تھے ،واضح رہے کہ حضرت کا یہ عمل جمیع صحابہ کا عمل نہ تھا اسی وجہ سے ان کی یہ خصوصیت بیان کی جاتی ہے ؛اس لیے بال کے اس حصے کو بھی تراش لینا بہتر ہے باقی اگر کوئی اس کو ترک کردے تو گنجائش ہے کہ حضرت عمر کے عمل سے ثابت ہے۔



قال ابن عابدین: واختلف في المسنون في الشارب ہل ہو القص أو الحلق؟ والمذہب عند بعض المتأخرین من مشائخنا أنہ القص۔ قال في البدائع: وہو الصحیح۔۔۔۔وقال في الفتح: وتفسیر القص أن ینتقص عن الاطار، وہو بکسر الہمزة: ملتقی الجلدة واللحم من الشفة۔ ( رد المحتار:۲/۵۵۰، کتاب الحج، باب الجنایات في الحج، ط: دار الفکر، بیروت ) وقال الملا علي القاري: قص الشارب: قال الحافظ ابن حجر:فیسن احفاوٴہ حتی تبدو حمرة الشفة العلیا۔ ( مرقاة المفاتیح:۲/۹۱، کتاب الطہارة، باب السواک، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۳۷۹ )وقال فی العرف الشذی: وأما الحد من الطرفین فلم تثبت،وتوخذ بقدر مالا توذی عند الأکل والشرب،ولعل عمل السلف أنہم کانوایقصرون السبالتین أیضاً،فان فی تذکرة الفاروق الأعظم ذکر أنہ کان یترک السبالتین واہتمام ذکر ترکہ السبالتین یدل علی أن غیرہ لا یترکہما․(العرف الشذی:۲/۱۰۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات