معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 756

ہمارے علاقہ میں ایک دکان دار ادھار اور نقد سامان کی فروخت کے الگ ریٹ لگاتا ہے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

Published on: Jun 18, 2007

جواب # 756

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 623/ج=623/ج)


 


نقد اور ادھار معاملہ میں سامان الگ الگ ریٹ پر بیچنا درست ہے، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں لیکن نقد اور ادھار معاملہ میں کسی ایک کا اور اس کی قیمت کا متعین ہونا ضروری ہے قال في بحوث فی قضایا فقهية معاصرة أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء و المحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات