معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 174763

ہمارے ہاں عموماً گاڑیاں قسطوں پر خریدی جاتی ہیں جو کہ عام قیمت کے اعتبار سے زیادہ مہنگی ہوتی ہیں مثلاً جو گاڑی 40 لاکھ روپے کی ہے۔ وہ گاڑی 50 لاکھ روپئے فروخت کی جاتی ہے ۔ اور ماہانہ قسط طے کی جاتی ہے۔ اور قسط لیٹ ہونے کی صورت میں کوئی اضافی رقم نہیں وصول کی جاتی ۔ کیا جو 10 لاکھ روپئے قیمت سے زائد وصول کئے گئے یہ سود کے ہیں ؟ اورکیا اس قسم کی خرید و فروخت جائز ہے؟

Published on: Nov 2, 2019

جواب # 174763

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 215-152/B=02/1441



اُدھار خرید و فروخت کا معاملہ کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت لینا درست ہے، یہ سود نہیں ہے۔ ہدایہ میں ہے۔ الا تری أنہ یزاد الثمن لاجل الأجل ۔ (ہدایة: ۳/۷۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات