معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 171654

زید نے احمد کی بزنس میں دس لاکھ روپئے تین سال کے لیے انویسٹ کئے اور یہ طے کیا کہ احمد جو بھی مال بیچے گا اس کی ہر پیس کے بدلے دو روپئے زید کو منافع ملے گا، کیا ایسا انویسٹ کرنا اور منافع لینا جائز ہے؟ اس میں نقصان کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، اس میں زید کی بزنس میں کوئی محنت نہیں ہے ، صرف انویسٹمنٹ ہے، اس میں جو سامان واپس ہوگا اس کا بھی کوئی معاملہ طے نہیں ہے یا واپس شدہ سامان جس کو دوبارہ بیچا جائے گا اس کا بھی معاملہ طے نہیں ہے، ایسی صورت میں احمد کا منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسی صورت میں پارٹنر شپ جائز ہے کہ نہیں؟ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Aug 1, 2019

جواب # 171654

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:971-884/sd=11/1440



شرکت صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نفع مجموعی منافع میں سے فیصد کے اعتبار سے متعین ہو، صورت مسئولہ میں زید کے لیے جس طرح نفع متعین کیا گیا ہے کہ احمد جو مال فروخت کرے گا، اس میں ہر پیس کے بدلے زید کو دو روپے بطور نفع کے ملیں گے، اس طرح نفع کا تعین صحیح نہیں ہے، اسی طرح شرکت صحیح ہونے کے لیے سرمایہ کے تناسب سے نقصان میں بھی شرکت ضروری ہے، جب کہ صورت مسئولہ میں نقصان کا کوئی ذکر نہیں ہے، لہذا مذکورہ طریقے پر شرکت کا معاملہ کرنا شریعت کی رو سے ناجائز ہے۔ منہا (شرائط جواز الشرکة) أن یکون الربح معلوم القدروأن یکون جزء ًا شائعًا فی الجملة لا معینا۔ ( بدائع الصنائع)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات