معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 170770

میں ایک دوکاندار ہوں، بہت سارے بینک والے میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کوئی بھی سامان میرے واسطے سے بیچیں اس میں مجھے کرنا یہ ہے کہ گراہک کو میں ان سے ملا دیتا ہوں اوربینک والے میرے سامان کی نقد قیمت دیدیتے ہیں اورگراھک سے وہ اپنے حساب سے چاہے قسط پر نفع کے ساتھ یا بغیر نفع کے یا جو بھی معاملہ ان دونون میں طے ہو ہم سے کچھ لینا دینا نہیں تو کیا ایسا کرنا ہمارے لیے شرعی رو سے جایز ہے کیونکہ اب أکثر وبیشتر اسی طرح معاملات ہو رہے ہیں فقہ حنفی کے رو سے جواب مطلوب ہے؟

Published on: May 26, 2019

جواب # 170770

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 908-809/M=09/1440



سوال میں درج ذیل امور کی پہلے وضاحت مطلوب ہے:



بینک والے آپ سے سامان خود اپنے لئے خرید لیتے ہیں پھر اس پر منافع کے ساتھ گراہک کو فروخت کرتے ہیں یا بینک والے، گراہک کا وکیل بن کر گراہک کے لئے خرید لیتے ہیں اور اس کام پر اجرت لیتے ہیں؟ بینک والے، گراہک کے ساتھ سودی معاملہ تو نہیں کرتے ہیں؟ وہ کس طرح گراہک کے ساتھ معاملہ طے کرتے ہیں اس کی تفصیل کیا ہے؟ پوری صورت حال واضح طور پر سامنے ہو تو حکم شرعی تحریر کیا جا سکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات