معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 168898

حضرت مفتی صاحب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایک گاڑی کا مالک بھٹے (اینٹیں تیار کرنے کی جگہ) سے اینٹ خرید کر پیھری کرتاہے مگر اس گاڑی مالک کے پاس رقم نہ ہونے کی وجہ سے میرے سے اس شرط کے ساتھ 30ہزار روپیہ ادھار لیتا ہے کہ آپ کی اس اصل رقم میں نقصان کے بغیر آپ کو نفع کا دسواں حصہ ملے گا (نفع و نقصان دونوں میں آپ شریک ہیں) تو کیا اس طرح کا معاملہ درست ہے کہ نہیں؟ مسئلہ واضح و مدلل فرما دیجئے کرم ہوگا۔

Published on: Mar 31, 2019

جواب # 168898

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:526-544/sd=7/1440



 اگر گاڑی کے مالک کی آپ کے ساتھ معاملہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گاڑی والا آپ سے تیس ہزار روپے لیتا ہے اس طور پر کہ اصل رقم کے علاوہ جو کچھ نفع ہوگا ، اُس میں سے دس فیصد آپ کو ملے گا ، تو شریعت کی رو سے اس معاملہ کی حیثیت مضاربت کی ہوگی، لہذا اگر نقصان ہوا، تو نقصان کی تلافی منافع کے بعد اصل پونجی سے کی جائے گی ، یعنی گاڑی کے مالک کے ذمہ نقصان کو پورا کرنا نہیں ہوگا ، پس اگر معاملہ میں یہ شرط لگائی جائے کہ نقصان کے باوجود پوری رقم گاڑی والا آپ کو واپس کرے گا ، تو یہ معاملہ فاسد ہوگا،اس لیے کہ مضاربت کے کاروبار میں اگر نقصان ہو جائے تو اوّلاً اس کی تلافی منافع سے کی جاتی ہے ، اگر منافع سے تلافی نہ ہو تو مال مضاربت سے اس کی تلافی کی جاتی ہے ایسی صورت میں رب المال کے مال کا نقصان ہوتا ہے اور مضارب کی محنت کا،پس اگرمضارب کاسرمایہ محفوظ رہنے کی شرط ہو تو یہ معاملہ جائز نہیں ہوتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات