معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 167490

دھنتیرس یا دیوالی کے موقع پر بازار ں کافی شباب پر ہوتے ہیں اس سے متاثر ہوکر مسلمانوں میں سے بعض لوگ خریداری کے لیے وہاں جاتے ہیں ۔ ان کا یہ عمل شریعت کی نظر میں جائز ہے یا ناجائز؟ ان موقوں پر اکثر بہت سی چیزوں پر چھوٹ دی جاتی ہے ۔ ان چیزوں کو خریدنا درست ہے یا نہیں؟

Published on: Dec 13, 2018

جواب # 167490

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:317-317/L=4/1440



دھنتیرسں یا دیوالی وغیرہ کے موقع پر عام بازاروں میں جاکرخرید وفروخت کرنے میں مضائقہ نہیں،اور تاجروں کو بھی شرعاً آزادی حاصل ہے کہ جب چاہیں اشیاء کی قیمت کم کردیں ؛لہذا اگر ان موقعوں پر خریداری کرنے کی صورت میں اشیاء کی قیمتوں پر چھوٹ ملتی ہے تو اس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔



عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: " أَنَّہُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّی وَبَیْنَ یَدَیْہِ غِرَارَتَانِ فِیہِمَا زَبِیبٌ، فَسَأَلَہُ سِعْرَہُمَا، فَسَعَّرَ لَہُ مُدَّیْنِ لِکُلِّ دِرْہَمٍ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ حُدِّثْتُ بَعِیرٍ مُقْبِلَةٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِیبًا، وَہُمْ یَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِکَ، فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِی السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِیبَکَ الْبَیْتَ فَبِعْتُہُ کَیْفَ شِئْتَ، فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَہُ، ثُمَّ أَتَی حَاطِبًا فِی دَارِہِ، فَقَالَ لَہُ: إِنَّ الَّذِی قُلْتُ لَیْسَ بِعَزْمَةٍ مِنِّی، وَلَا قَضَاءً، إِنَّمَا ہُوَ شَیْءٌ أَرَدْتُ بِہِ الْخَیْرَ لِأَہْلِ الْبَلَدِ، فَحَیْثُ شِئْتَ فَبِعْ وَکَیْفَ شِئْتَ فَبِعْ "․ (معرفة السنن والآثارللبیہقی:8/204،رقم الحدیث،11651،الناشر: جامعة الدراسات الإسلامیة کراتشی باکستان)



 عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَعِّرْ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ یَخْفِضُ وَیَرْفَعُ، وَلَکِنِّی أَرْجُو أَنْ أَلْقَی اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَیْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِی مَظْلِمَةٌ(مسند الإمام أحمد بن حنبل:14/163،الناشر: مؤسسة الرسالة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات