معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 166872

عرض ہے کہ شیئر مارکیٹ میں شیئر خریدنا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں؟جواب مطلوب ہے ۔رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 22, 2018

جواب # 166872

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 340-327/H=3/1440



شیئر مارکیٹ میں شیئر خریدنے اور بیچنے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ کمپنی کسی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو، اور اس کمپنی کے تمام اثاثے نقد شکل میں نہ ہوں، بلکہ کچھ منجمد اثاثے بھی موجود ہوں، ورنہ کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا۔



دوسری شرط یہ ہے کہ خریدو فروخت سے نفع نقصان برابر کرکے نفع کمانا مقصود نہ ہو، جس میں نہ تو شیئرز پر قبضہ ہوتا ہے، نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے، بلکہ ایک سٹہ بازی کی شکل ہوتی ہے جو حرام ہے۔



تیسری شرط یہ ہے کہ شیئرز بیچنے والے کے حق میں ڈلیوری ہو چکی ہو، کیونکہ ڈلیوری ہوئے بغیر بیچنا بیع قبل القبض کی شکل میں داخل ہوکر ناجائز ہے۔



چوتھی چیز یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہے، لیکن ساتھ میں وہ کمپنی بینک سے سودی قرض لیتی ہے، یا اپنی زائد رقم سودی اکاوٴنٹ میں رکھ کر اس پر سود وصول کرتی ہے، تو کمپنی میں شرکت کرنے والے کے لئے ضروری ہے، کہ کمپنی کی کل آمدنی میں جتنے فیصد سودی رقم ہے، اتنے فیصد اپنے نفع میں سے نکال کر صدقہ کردے، اور اس کی سالانہ میٹنگ میں اس کے خلاف آواز بھی اٹھائے(اسلام اور جدید معاشی مسائل : ۳/۲۲) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات