معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 165920

میں نے سنا ہے کہ اگر اپنی ضرورت کے لئے کوئی سامان خریدا پھر اس میں تجارت کی نیت کر لی تو اس میں زکوة نہیں ہوگی اس کے بر خلاف اگر کوئی جیز مال تجارت کی نیت سے خریدی لیکن بعد میں استعمال کی نیت کرلی تو اس میں زکوة نہیں ہے کیا یہ صحیح ہے اور اس میں کیا حکمت ہے ؟
براہ کرم تفصیل سے بتائیں اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔

Published on: Oct 31, 2018

جواب # 165920

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 198-118/B=2/1440



مذکورہ دونوں صورتوں میں زکات واجب نہ ہوگی، تجارتی مال وہ کہلاتا ہے جو تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو اور اخیر تک اس میں تجارت کی نیت باقی رہے۔ ابتداء میں تجارت کی نیت کرنا بعد میں استعمال کرلینا، یا پہلے ضرورت کی نیت سے مال خریدا اور بعد میں تجارت کی نیت کرلی تو ان دونوں صورتوں میں وہ تجارتی مال نہ ہوگا، نہ ہی ان دونوں میں زکات واجب ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات