معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 164466

کیا فرما تے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متیں مسئلہ ذیل کے سلسلے میں کہ ایک کمپنی ہے جو بائیک خرید کر کرائے پر چلاتی ہے اور جس شخص سے کمپنی گاڑی لیتی ہے اس سے یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ 12مہینے تک آپ کو آپ کی گاڑی کی قیمت قسطوں میں ادا کر دیں گے اور بارہ مہینوں کا کرایہ بھی آپ کو دینگے جیسے ہر مہینے میں 5000ہزار قسط اور 4500کرایہ کے یعنی آپ کو آپ کی گاڑی کی قیمت قسطوں میں ادا کر دیں گے اور بارہ مہینوں کا کرایہ بھی آپ کو دیں گے جیسے ہر مہینے میں 5000ہزار قسط اور 4500کرایہ کے یعنی آپ کو آپ کی گاڑی کی قیمت 60000 ہزار روپے اور کرایہ 54000ہزار روپے کرایہ کے بھی مل جائیں گے تو کیا اس طرح خریدنا اور بیچنا صحیح ہے یا نہیں؟

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 164466

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1395-1335/D=1/1440



اس میں بظاہر گاڑی کی مجموعی قیمت کے مجہول ہونے کا شبہ ہوتا ہے اگر یہ شرط نہ ہو کہ جو کرایہ ملے گا وہ بھی دیدیں گے بلکہ ساٹھ ہزار او رچون ہزار کی مجموعی رقم دینا طے ہو خریدار چاہے جیسے دے تو درست ہے۔ اب گاڑی سے کرایہ ملے نہ ملے کم ملے یا زیادہ ملے کوئی فرق نہ پڑے گا۔ پس اس طرح قیمت کی مجموعی مقدار متعین ہو کر طے ہونی چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات