معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 163048

آج کل بہت سارے دلال ایجینٹ ہیں جو مختلف کوموڈییز(commodities) میں پیسہ لگانے کے لیے سروس آفر کرتے ہیں، آپ ان کے ذریعہ پیسہ لگا سکتے ہیں اور منافع کما سکتے ہیں ، تاہم، اس میں نفع و نقصان دونوں ہوتاہے، ان تمام لین دین میں آپ کوخریدے گئے سامانوں پر حسی قبضہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ یہ آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجائے گا ، اس طرح سے رسک آپ کی طرف منتقل ہوجائے گا، اور جب قیمت بڑھے گی تو اس کو منافع پر بیچ سکتے ہیں جو بھی منافع ہو اور اس میں نقصان بھی ہوسکتاہے ۔
براہ کرم، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح کا بزنس کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Published on: Sep 5, 2018

جواب # 163048

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1386-179T/SD=12/1439



 سامان پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر خریدے گئے سامان پر قبضہ کا تحقق نہیں ہوتا ہے ، تو اس کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے ، منقولہ اشیاء میں محض رسک کا اکاوٴنٹ میں منتقل ہونا کافی نہیں ہے ۔



عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا یَبِعْہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ کُلَّ شَیْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ۔(مسلم) (لا) یَصِحُّ اتِّفَاقًا کَکِتَابَةٍ وَإِجَارَةٍ وَ (بَیْعِ مَنْقُولٍ) قَبْلَ قَبْضِہِ وَلَوْ مِنْ بَائِعِہِ۔ (الدر المختار) قال المرغینانی : وَمَنْ اشْتَرَی شَیْئًا مِمَّا یُنْقَلُ وَیُحَوَّلُ لَمْ یَجُزْ لَہُ بَیْعُہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ , لأَنَّہُ علیہ الصلاة والسلام نَہَی عَنْ بَیْعِ مَا لَمْ یُقْبَضْ وَلأَنَّ فِیہِ غَرَرَ انْفِسَاخِ الْعَقْدِ عَلَی اعْتِبَارِ الْہَلاکِ . (الہدایة) قال الزیلعی: (لا بَیْعُ الْمَنْقُولِ) أَیْ لا یَجُوزُ بَیْعُ الْمَنْقُولِ قَبْلَ الْقَبْضِ لِمَا رَوَیْنَا وَلِقَوْلِہِ علیہ الصلاة والسلام: ”إذَا ابْتَعْت طَعَامًا فَلا تَبِعْہُ حَتَّی تَسْتَوْفِیَہُ“ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَلأَنَّ فِیہِ غَرَرَ انْفِسَاخِ الْعَقْدِ عَلَی اعْتِبَارِ الْہَلاکِ قَبْلَ الْقَبْضِ ; لأَنَّہُ إذَا ہَلَکَ الْمَبِیعُ قَبْلَ الْقَبْضِ یَنْفَسِخُ الْعَقْدُ فَیَتَبَیَّنُ أَنَّہُ بَاعَ مَا لا یَمْلِکُ وَالْغَرَرُ حَرَامٌ لِمَا رَوَیْنَ۔ (تبیین الحقائق)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات