معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 161562

حضرت، اگر سیب ۱۰۰/ روپیہ فی کلو گرام ہے، ہم نے ۳/ کلو گرام بیچا تو ۳۰۰/ روپئے ہوگئے، ہم گاہک سے اگر ۳۵۰/ روپئے لیں تو یہ اوپر کے ۵۰/ روپیہ حلال ہے یا نہیں؟

Published on: May 24, 2018

جواب # 161562

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1117-913/sd=9/1439



شریعت میں نفع لینے کی کوئی حد متعین نہیں ہے جتنا چاہیں نفع لے سکتے ہیں بشرطیکہ جھوٹ نہ بولا جائے او رگاہک کو دھوکہ نہ دیا جائے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر تین کلو سیب تین سو پچاس میں بیچا ، توپچاس روپے زائد رقم حلال ہوگی ؛ہاں اگر یہ نفع مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے بہت زیادہ ہو، تو اتنا نفع لینا مروت کے خلاف ہے ۔ الثمن المسی ہو الثمن الذی یسمیہ و یعینہ العاقدان وقت البیع بالتراضی سواء کان مطابقاً لقیمتہ الحقیقیة أو ناقصاً عنہا أو زائداً علیہا (شرح المجلہ رستم، ط: اتحاد ۷۳/۱) المرابحة بیع بمثل الثمن الأول وزیادة ربح والکل جائز ( الفتاوی الہندیة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات