معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 160967

میں ایک کار خرید نا چاہتا ہوں جس میں کمپنی کی طرف سے دو اختیار دیا گیا ہے ؛
۱. یک مشت ادائیگی کی صورت میں سات لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے ،
۲. اور قسط وار ادائیگی کی صورت میں دس لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے لیکن متعینہ مدت کے اندر رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر مہینہ کچھ رقم کا جرمانہ عائد ہوتا ہے اور اس کے بعد بھی ایک متعینہ مدت ہوتی ہے جس میں رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں کمپنی گاڑی واپس لے لیتی ہے کیا شرعاً ایسا خرید و فروخت درست ہے ؟

Published on: May 7, 2018

جواب # 160967

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:966-702/sn=8/1439



اگر مجلس عقد میں یہ طے ہوجائے کہ کل قیمت گاڑی کی کتنی ہوگی (گو وہ نقد کے بالمقابل کافی زیادہ ہو) اور کتنی مدت میں اس کی ادائیگی کی جائے گی نیز آپ کو یہ امید قوی ہے کہ متعینہ مدت کے اندر اندر بہ شکل قیمت ادا کردیں گے اور اس عزم کے ساتھ خریدیں تو صورتِ مسئولہ میں قسطوار ادائیگی کی شرط پر گاڑی خریدنے کی گنجائش ہے بہ شرطے کہ معاملہ براہ راست ”ڈیلر“ سے ہو، بینک یا فینانس کمپنی کے توسط سے نہ ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات