معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 160803

آن لائن مارکیٹ میں No Cost EMI کے بارے میں ۔
آن لائن مارکیٹ جیسے فلپ کارٹ پر اسکیمیں آتی ہیں جن میں نو کوسٹ ای ایم آئی اسکیم کریڈیٹ کارڈ (No Cost EMI SCHEME CREDIT CARD) پر ہوتی ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
(۱) مثال کے طور پر اگر 12000 روپئے کا پروڈکٹ (مصنوعات) ہے تو نو کوسٹ ای ایم آئی (no cost emi) میں وہ 12000 روپئے کا ہی ملتا ہے، لیکن ماہانہ قسطوں میں پیسہ دینا ہوتا ہے۔
(۲) ہوتا یہ ہے کہ 12000 روپئے کی چیز پر وہ لوگ ڈسکاوٴنٹ دیتے ہیں جو انٹریسٹ کے برابر ہوتا ہے لیکن ٹوٹل قیمت 12000 روپئے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
(۳) نقد لیں تو بھی وہ 12000 روپئے میں ہی لینا ہوتا ہے لیکن نو کوسٹ ای ایم آئی (No Cost EMI) میں قسط مل جاتی ہے اور یہ اسکیم اکثر کریڈیٹ کارڈ پر ہوتی ہے، بہت سارے مسلمان بھائی اس سے خریدتے ہیں۔
تفصیل کے ساتھ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 21, 2018

جواب # 160803

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 921-790/SN=9/1439



مجلس عقد ہی میں اگر سامان کی مجموعی قیمت اور اس کی ادائیگی کی مدت طے ہوجائے تو قسطوں پر بھی سامان خریدنا شرعاً جائز ہے، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہیں، صورت مسئولہ میں بھی چونکہ مجموعی قیمت اور بہ شکل قسط ادائیگی کی مدت متعین ہے نیز بہ ظاہر کوئی امر محظور بھی نہیں ہے؛ اس لئے مذکور فی السوال اسکیم کے تحت قسطوں پر ادائیگی کی شرط کے ساتھ سامان خریدنا شرعاً جائز ہے بہ شرط یہ ہے کہ درمیان میں بینک یا فینانس کمپنی سے مبنی بر سود لون لینے کی شکل نہ پائی جاتی ہو۔ البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطہ صحیح ․․․․ یلزم أن تکون المدّة معلومة فی البیع التاجیل والتقسیط) شرح المجلة: ۱/۱۲۷، رقم المادة: ۲۴۵، ۲۴۶) ۔



--------------------------



جواب صحیح ہے البتہ بینک یا فائنانس کمپنی کا واسطہ ہونے نہ ہونے کی تحقیق کرلی جائے، اس کے بعد کوئی قدم اٹھایا جائے (ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات