معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 160761

میڈیسن کی ایک مارکیٹ میں تین ھول سیل ڈیلر ہیں جوکہ گاہک کے ساتھ تک رعایت کرتے ہیں اور اسی مارکیٹ میں موجود دیگر دکاندار %5 تک رعایت کرتے ہیں ۔ زیادہ رعایت کرنے کی وجہ سے گاہک مارکیٹ میں موجود ھول سیل دکانداروں کے پاس جاتے ہیں اور عام دکانداروں کے پاس نہیں جاتے ۔ مارکیٹ میں موجود عام دکانداروں نے بازار کے صدر اور دیگر عہدیداروں سے گاہک کے نہ آنے اور سیل کے نہ ہونے کی فریاد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ میں ٪ 5 سے زیادہ رعایت کرنے والوں کو اس بات کا پابند بنالے کہ وہ بھی گاہک کے ساتھ ٪ 5سے زیادہ رعایت نہ کریں ۔ بازار کے صدر نے دوسرے دکانداروں کی مجبوری کو دیکھ کر مارکیٹ میں موجود تمام دکانداروں پر یہ پابندی عاید کردی کہ کوئی بھی دکاندار گاہک کے ساتھ 5 فیصد سے زیادہ رعایت نہ کریں اور اگر کسی نے اس پابندی کی پاسداری نہیں کی تو وہ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا اور مارکیٹ کا کوئی بھی دکاندار اور تمام میڈیسن کمپنی والے اس کے ساتھ کاروبار نہ کرنے کے پابند ہوگے ۔ مارکیٹ میں موجود ایک ھول سیل ڈیلر بازار کے صدر اوردیگر عہدیداروں کے اس فیصلے پر اعتراض کرتاہواکہتا ہے کہ یہ فیصلہ غیر شرعی اور ناجائز ہے اوربازار کے صدر وغیرہ کو اس طرح فیصلے کرنے کاشرعا حق نہیں جبکہ مارکیٹ کے تمام دکاندار اس فیصلے پر راضی ہیں اور اس کو قبول کرتے ہیں ۔ مطلوبہ مسئلہ یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں شرعا حق بجانب کون ہے ؟ مذکورہ مسئلہ سے فریقین کے درمیان اختلافات کے پیداہونے کا قوی امکان ہے اس لیے آپ مفتی صاحب کی خدمت میں درخواست ہے کہ حتی الوسع جواب جلدی اور مفصل دینے کی کوشش فرمائیں ۔

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 160761

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:989-861/L=8/1439



شریعت کا منشا ہے کہ تجارت کو آزاد رکھا جائے ،اس پر پابندی عائد نہ کی جائے ،خاص مجبوری کی شکل میں جب کہ تجار حد سے تجاوز کرنے لگیں ،اور حاکم کے لیے تسعیر کے بغیر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ سے عاجز ہوجائے تو اہلِ رائے اور اہلِ بصیرت لوگوں کے مشورے سے تسعیر کی گنجائش ہے ؛لیکن خود تجار کے لیے یہ حق نہیں کہ وہ نرخ متعین کریں اور اس پر پابندی لگائیں؛اس لیے بازار کے صدر اور دیگر عہدہ داروں کا یہ فیصلہ درست نہیں۔ ولایسعر حاکم لقولہ علیہ الصلاة والسلام :”لاتسعروا فان اللہ ہوالمسعر القابض الباسط الرازق“ الا اذا تعدی الأرباب عن القیمة تعدیاً فاحشاً فیسعربمشورة أہل الرأي․․․(الدرالمختار مع ردالمحتار:۹/۵۷۳ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات