معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 160325

مفتی صاحب، ایک مسئلہ کا قرآن اور حدیث کی روشنی میں حل بتائیں تو نوازش ہوگی زید ایک بڑا تاجر ہے کروڑوں روپیہ کا سرما لگا یا ہے ...الحمدللہ تجارت بھی بہت اچھا چل رہی ہے . اب زید کو مزید سرمایہ کی ضرورت ہوئی تو زید نے کئی لوگوں سے ایک لاکھ دو لاکھ روپیہ لیکر اپنی اسی تجارت میں شامل کرلیتا ہے ... چونکہ زید کا کاروبار اور سرمایہ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان چھوٹے موٹے سرمایہ داروں کا ایک لاکھ یا دو لاکھ وغیرہ کا الگ سے حساب نا ممکن ہوتا ہے .. اور ان سرمایہ داروں کو کتنا نفع ہوا اس کا حساب کرنا بھی نا ممکن ہے .. اس لیے زید ماہانہ اپنی طرف سے بخوشی اوسطا" حساب کے تحت تین یا چار ہزار روپیہ بطور منافع دیدیتا ہے .. اور جب سرمایہ دار اپنا سرمایہ واپس پوچھے تو بغیر کوئی نقصان کے پورا روپیہ بھی واپس کریتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا 1.زید کا یہ عمل جائز ہے ؟
(۲) کیا ان سرمایہ داروں کو اس طرح منافع لینا جائز ہے ؟
(۳) اگر نہیں تو ٰزید اپنی اس وسیع تجارت میں سے حساب کی کیا شکل اختیار کرے ؟
(۴) ان چھوٹے سرمایہ داروں کو *جو خود تجارت نہیں کرسکتے * کیا صورت اختیار کرنا چاہیے ۔براہ کرم تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔
یہ مسئلہ وقت کا اہم ترین مسئلہ بنا ہوا ہے ، بہت سے لوگ بلکہ دیندار قسم کے لوگ بھی اس شکل میں شامل ہیں۔بہت نوازش ہوگی۔ اللہ آپ کے خدمات کو قبول فرمائے اور مزید دین کی خدمات لے ۔ جزاکم اللہ

Published on: Apr 15, 2018

جواب # 160325

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:924-845/L=7/1439



(۱تا ۴)شرکت میں نفع کا تعین فی الجملہ منافع سے ضروری ہے،یعنی اگر نفع ہوا تو اس کا اتنا فیصد (گو وہ ایک یا نصف فیصد ہی کیوں نہ ہو)فلاں کا ہوگا،اور نقصان کی صورت میں رأس المال کے اعتبار سے ہر شریک نقصان برداشت کرے گا ،محض اندازے سے تین یا چارہزار رقم مقرر کرکے دینا درست نہیں؛بلکہ اس میں سود ہونے کا بھی اندیشہ ہے ،چھوٹے سرمایہ کاروں کے ساتھ شرکت یہ صورت ہوسکتی ہے کہ ان کو چھوٹے اور متعین کاروبار میں شریک کیا جائے اور ان کا حساب وکتاب رکھا جائے اور اوپر مذکور صورت کے مطابق شرکت کا معاملہ کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات