معاملات - بیع و تجارت

india

سوال # 159948

تجارتی اشیاء کا بزنس میں پہلے کسی چیز کا بیچنا پھر اسے خریدنا یعنی خریدنے سے پہلے ہی دو روپیہ کا بیچنا پھر ایک روپیہ کا خریدنا تو ایک روپیہ پرافٹ ہوگا، کیا یہ جائز ہے؟ واضح رہے کہ بیچنے کے بعد خریدنے کے لیے ایک مہینہ کی مدت ہے۔
معاف کرنا ہمیں اردو نہیں آتی اور نہ ہی انگلش ، اس لیے براہ کرم، ہندی زبان میں ہی جواب دیں، کرم ہوگا۔

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 159948

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:904-866/L=8/1439



پہلے کسی کو سامان بیچنے کی صورت میں اگر خریدار کی طرف سے مکمل یا بعض رقم کی ادائیگی سے پہلے بائع کے ہاتھ فروخت کیا جائے تو یہ جائز نہیں؛البتہ اگر خریدار مکمل رقم ادا کردے اور بعد میں بخوشی کم قیمت میں وہ چیز فروخت کرے تو کم قیمت میں اس سے خریدنے کی گنجائش ہوگی۔ومن اشتری جاریةً بألف درہم حالة أو نیسئةً فقبضہا ثم باعہا بخمس مائة قبل أن ینقد الثمن لا یجوز البیع الثاني (ہدایہ: ۳/۵۷)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات