معاملات - بیع و تجارت

syria

سوال # 158901

(۱) علی نے اویل ٹینک (تیل کا ٹینک) 800/ روپئے میں خریدا اور ۲۵/ سال بعد اس ٹینک کی قیمت 100000 / روپئے ہے۔ علی اب اس ڈَرَم کی کیا قیمت ادا کرے؟
(۲) اویل ٹینک بیچنے والا ۲۵/ سال بعد کہے کہ مجھے پیسے نہ دو اویل ٹینک دو، اب اس صورت میں علی اویل ٹینک دے؟
(۳) علی پیسے 800/روپئے دے یا اویل ٹینک؟

Published on: Feb 26, 2018

جواب # 158901

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 581-545/M=6/1439



(۱تا ۳) صورت مسئولہ میں اگر علی نے اویل ٹینک آٹھ سو روپئے میں خریدا ہے تو ۲۵سال بعد بھی علی کے ذمہ آٹھ سو روپئے ہی کی ادائیگی لازم ہے، چاہے ادائیگی کے وقت مبیع کی قیمت کچھ بھی ہو ہاں اگر عقد کے وقت تراضی طرفین سے یہ بات طے ہوگئی ہو کہ ایک وقت مقررہ پر مکمل ثمن ادا نہیں کیا تو بائع کو معاملہ فسخ کرنے کا اختیار ہوگا تو ایسی صورت میں طے شدہ معاہدے کے مطابق مقررہ وقت پر ثمن ادا نہ کرنے کی و جہ سے بائع کو عقد ختم کردینے کا اختیار ہوگا اور اگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا تو بائع کو از خود فسخ کا حق نہ ہوگا ہاں اگر مذکورہ صورت میں بائع (اویل ٹینک بیچنے والا) کہے کہ مجھے میرا ٹینک واپس کردو اور مشتری بخوشی واپس کردے تو معاملہ ختم ہوجائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات