معاملات - بیع و تجارت

india

سوال # 158329

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے کچھ روپئے انویسٹ کئے ہیں رِپل (Ripple) نام کی ایک کمپنی میں، جس کی ایک کریپٹو کرنسی (Crypto currency) بھی ہے۔ رِپل نام کی ایک کمپنی ہے اور وہ بین الاقوامی ادائیگی کرنے کے تصفیہ کے لیے ایک ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جس میں دنیا کے تقریباً ۹۰/ بینک اس ٹیکنالوجی کو استعمال کررہے ہیں۔ اور اس کرنسی کو ہندوستانی حکومت نے ڈیجیٹل کرنسی نہیں مانا ہے۔ اس کا مطلب وہ اسے کرنسی یعنی روپیہ کے مانند قرار نہیں دیتی۔ لیکن ہندوستانی حکومت اس کے اوپر اِنکم ٹیکس ضرور لیتی ہے اور وہ اسے ڈیجیٹل تجارتی اشیاء (Digital Commodity) کے طور پر پیش کرتی ہے جیسا کہ ہم شیئر مارکیٹ میں پیسہ ڈالتے ہیں وہاں کمپنی کے شیئرز آن لائن کی صورت میں رہتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں اس کریپٹو کرنسی کو ڈیجیٹل تجارتی اشیاء بول کر اِنویسٹ منٹ کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ انڈیا کی حکومت اس کا قرار دیتی ہے۔ کیا میرا اِنویسٹ منٹ کرنا جائز ہے؟

Published on: Feb 14, 2018

جواب # 158329

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 470-424/N=5/1439



کریپٹو کرنسی (بٹ کوئن وغیرہ)کو آپ ڈیجیٹل کرنسی کہیں یا ڈیجیٹل تجارتی چیز، بہر صورت یہ ایک فرضی چیز ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے۔بٹ کوئن یا کوئی بھی کریپٹو کرنسی فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں از روئے شرع مال نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثمن عرفی ہے۔ نیز اس کاروبار میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے ؛ اس لیے کرپٹو کرنسی (:بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی) کی خرید وفروخت کی شکل میں نیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاًحلال وجائز نہیں ہے؛ اس لیے کسی مسلمان کے لیے اس کاروبار میں پیسے انویسٹ کرنا بھی شرعاً جائز نہ ہوگا ۔



قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)،یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون( المائدة، ۹۰)،وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر(المسند للإمام أحمد،۲: ۳۵۱، رقم الحدیث: ۶۵۱۱)،﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة(معالم التنزیل ۲: ۵۰)، لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخریٰ۔ وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء، فصل في البیع، ۹: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات