معاملات - بیع و تجارت

india

سوال # 157394

حضرت، میرے ماموں نے مجھ سے کاروبار کے لیے ۱۷/ لاکھ روپئے لیے ہیں ایک سال کے لیے ایک سال تک وہ ہر مہینے پانچ ہزار روپئے دیں گے اور ایک سال پورا ہو جانے کے بعد وہ مجھے ۲۲/ لاکھ روپئے دیں گے چاہے انہیں فائدہ ہو یا نقصان، کیا اس صورت میں انہیں پیسے دینا جائز ہے؟

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157394

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:360-303/D=4/1439



صورت مسئولہ میں اصل رقم سے زائد رقم جو ملے گی وہ قطعی طور پر سود ہے اس کا لینا کسی طرح بھی جائز نہیں بلکہ اس طرح کا سودی معاملہ کرنا ہی ناجائز اور حرام ہے۔



سرمایہ لگاکر نفع حاصل کرنے کی جو جائز صورت ہوتی ہے وہ شرکت یامضاربت کہلاتی ہے جس کی کچھ شرائط ہیں کسی عالم سے جاکر سمجھ لیجیے، بہشتی زیور میں بھی مختصر طور پر لکھی ہوئی ہے اس کے مطابق اگر معاملہ کریں گے تب جائز ہوگا۔



اس میں خاص بات یہ ہوتی ہے سرمایہ کاروبار میں لگانے کے بعد جو کچھ نفع ہوتا ہے اس میں فیصد کے حساب سے نفع تقسیم کرنا طے کیا جاتا ہے، مثلاً جو کچھ نفع ہوگا اس میں سے آدھا آدھا دونوں لیں گے کوئی رقم متعین کرکے لینا اس میں بھی جائز نہیں ہوتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات