معاملات - بیع و تجارت

pakistan

سوال # 154721

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میرے ساتھ ایک مولانا صاحب نے ایک متعین پلاٹ کی خریداری کا معاہدہ کیا کہ نفع ہوگا تو برابر اور اگر میں پہلے رقم واپس لوں تو واپس لے سکتا ہوں۔ اب جبکہ پلاٹ الاٹ ہوگیا ہے اور پلاٹ میں نفع کے بجائے نقصان ہو رہا ہے ۔ مولانا صاحب نے کئی بار تنگ کیا بات گالی کلوچ تک آگئی میں نے آکر کار تنگ آکر کچھ رقم دے دی اور مزید رقم نہ دے سکتا ہوں جبکہ ان کی کل رقم چار لاکھ میں سے ڈیڑھ لاکھ دیا ہے اور اڑھائی لاکھ رہتا ہے ۔ وہ پوری رقم پلاٹ میں من و عن لگائی ہوئی جس کا میں حلفیہ بیان دیا ہوا ہے ۔ اس کوکل رقم ادا کرنے سے میں گناہ گار تو نہیں ہوں گا۔ کیونکہ مجھے اس وقت لگ بھگ دو لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے اور وہ اپنی پوری رقم لینے کی ضد پر ہے ۔ مہربانی فرما کر اس میں بندہ کی رہنمائی کریں تاکہ گناہ سے بچا جا سکے ۔

Published on: Oct 11, 2017

جواب # 154721

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1395-1360/sd=1/1439



بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں اگر مولانا صاحب نے آپ کے ساتھ ایک متعین پلاٹ کی خریداری کا معاملہ کیا تھا کہ ہم دونوں پلاٹ خرید کر اُس کو فروخت کریں گے اور جو نفع ہوگا، وہ آپس میں برابر برابر تقسیم ہوگا، تو یہ شرکت کا معاملہ ہوا اور شرکت میں نقصان ہونے کی صورت میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ ہر شریک کا نقصان اُس کے مال کے تناسب سے ہوگا، یعنی جتنے فیصد کسی کی سرمایہ کاری ہے ، اتنے ہی فیصد وہ نقصان میں حصہ دار ہوگا؛ لہذا مولانا صاحب نے مذکورہ پلاٹ کی خریداری میں جتنے فیصد اپنا سرمایہ لگایا تھا، نقصان میں اسی کے بقدر وہ حصہ دار ہوں گے ، نقصان کے باوجود اپنی پوری رقم کا مطالبہ کرنا شرعا ناجائز ہے اور اگر آپ اپنی خوشی اور رضامندی سے اُن کی پوری رقم واپس کردیں، تو یہ آپ کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا، اس میں آپ گنہگار نہیں ہوں گے ۔صورت مسئولہ میں اگر معاملہ کی کوئی اور صورت مرادہو، تو اُس کی وضاحت کر کے دوبارہ سوال کرلیا جائے ۔قال الکاسانی : والوضیعة علی قدر المالین متساویا ومتفاضلا؛ لأن الوضیعة اسم لجزء ہالک من المال فیتقدر بقدر المال۔ ( بدائع الصنائع : ۶۲/۶، ط: دار الکتب العلمیة )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات