• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 153190

    عنوان: "قبضے " کی شرائط کیا ہیں؟

    سوال: سوال: شریعت میں کسی مال کو قبضے میں لئے بغیر آگے بیچنا جائز نہیں، اس سلسلے میں "قبضے " کی شرائط کیا ہیں؟ مثلاً، میں نے کراچی کی فیکٹری سے مال خریدا، کیا اس مال کو وہاں سے اٹھوا کر لاہور منگوایا جائے ؟ اور پہر دوبارہ کراچی بیچا جائے ؟ کیا "قبضے " کا مطلب اس مال کو اپنی تحویل میں لینا شرط ہے ؟ یا پھر اس مال کے نفع نقصان کا زمہ دار ہو جانا شرط ہے ؟

    جواب نمبر: 153190

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1381-1325/sn=1/1439

    (الف) شرعاً قبضہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب مشتری مال کو خود یا کسی نمائندے (وکیل) کے ذریعے اپنی تحویل میں لے لے، نفع نقصان کا ذمے دار ہوجانا کافی نہیں ہے؛ بلکہ نفع نقصان کا ذمے دار اس وقت ہوتا ہے جب کہ مال اس کی تحویل میں آجائے، اس سے پہلے وہ شرعاً نفع نقصان کا ذمے دار نہ ہوگا، اگرچہ متعاقدین کے درمیان یہ بات طے ہوجائے۔

    (ب) صورت مسئولہ میں مال کراچی سے لاہور اٹھواکر لانا ضروری نہیں ؛ بلکہ اگر آپ کا کوئی نمائندہ بائع سے مال کو اپنی تحویل میں لے یا پھر آپ کے حسب ہدایت کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے حوالے بائع مال کردے تو ان دونوں صورتوں میں شرعاً قبضے کا تحقق ہوجائے گا، ٹرانسپورٹ کے حوالے کرنے کی صورت میں یہ کمپنی آپ کی نمائندہ شمار ہوگی، جب شرعاً یہ قبضہ ہے تو آپ لاہور پہنچنے سے پہلے بھی اس مال کو آگے فروخت کرسکتے ہیں۔ ولا یشترط القبض بالبراجم؛ لأن معنی القبض ہو التمکن والتخلّي وارتفاع الموانع عرفًا وعادةً حقیقةً (بدائع: ۴/۳۴۲، ط: زکریا) وفي رد المحتار: اشتری بقرة مریضة وخلاہا في منزل البائع قائلاً إن ہلکت فمني، وماتت فمن البائع لعدم القبض (درمختار مع الشامي: ۷/۸۹، زکریا) وفي الہندیة: إذا قال المشتری للبائع ابعث إلی ابنی واستأجر البائع رجلا یحملہ إلی ابنہ فہذا لیس بقبض والأجر علی البائع إلا أن یقول استأجر علی من یحملہ فقبض الأجیر یکون قبض المشتری إن صدقہ أنہ استأجر ودفع إلیہ وإن أنکر استئجارہ والدفع إلیہ فالقول قولہ کذا فی التتارخانیة․ (الہندیة: ۳/۱۹، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند