معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 153132

الف ۔ آج کل یہ عام بات ہے کہ درختوں پر پھلوں کو ایک سال یا دو سال کے لئے پھل آنے سے پہلے بیچ دیا جاتا ہے ۔
1 ۔ کیا اس طرح بیچنا جائز ہے ؟
2 ۔ اور بیچتے وقت یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ہمیں اتنے پھل بھی دینے پڑیں گے جس کو یہاں جنس کہتے ہیں، کیا یہ بھی جائز ہے ۔
3 ۔ اگر کوئی اس طرح ( مذکورہ الف ) پھل خریدتا ہے اگر وہ ہدیہ کے طور پر پھل دے ان کا کھانا کیسا ہے ؟
4 ۔ اگر پھل بیچنے والا جنس کے طور پر طے شدہ پھل لے لے اگر وہ ہمیں ان میں سے ہدیہ دے تو ان کا کھانا کیسا ہے ؟
5 ۔ اگر اس طرح (مذکورہ الف) پھلوں کی بیع ہوئی یا کسی کے یہاں جنس کے طور پر طے شدہ پھل آئے کیا ان کو خرید کر کھا سکتے ہیں؟
6۔ اگر کسی نے اسی طریقے (مذکورہ الف) سے پھل خریدے اس کے منافع کا کیا حکم ہے ؟
7۔ اگر کسی نے کل حرام مال سے کوئی چیز خریدی، کیا اس سے اس چیز کو خرید سکتے ہیں؟ اگر خرید لی ہو تو کیا حکم ہے ؟

Published on: Sep 12, 2017

جواب # 153132

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1111-1261/sd=12/1438



(۱) درختوں پر پھل آنے سے پہلے ایک سال یا دو سال کے لیے پھلوں کو فروخت کرنا ناجائز اورباطل ہے ، یہ معدوم کی بیع ہے ، جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔



(۲) تعیین کے ساتھ پھلوں کے دینے کی شرط لگانا فاسد ہے ۔



 (۳،۴) شریعت میں معدوم کی بیع باطل ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ مشتری کے لیے بائع کو مبیع واپس کرنا ضروری ہوتا ہے ، اِس میں قبضہ کے بعد بھی مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے ، لہذا اگر کسی کے بارے میں معلوم ہو کہ اُس نے مذکورہ طریقے پر پھل خریدے ہیں ، تو اس سے وہ پھل ہدیہ میں لینا جائز نہیں ہے ۔



 (۵) اگر پہلے سے علم ہو، تو خریدنا جائز نہیں ہے ؛ لیکن عام طور پر بازار میں فروخت ہونے والے پھلوں کے بارے میں علم نہیں ہوتا ہے ، اس لیے عام حالات میں بازار سے پھل خریدنا جائز ہوگا اور اس سلسلے میں تحقیق و تفتیش واجب نہیں ہے ۔



(۶) ایسی صورت میں منافع ناجائز ہوں گے ۔



(۷)جی ہاں! خریدنے کی گنجائش ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات