معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 149253

فرض کریں ایک گاڑی کی نقد قیمت ایک لاکھ روپے ہے کیا کوئی ایک سال کے بعد کی ادائیگی کی شرط پر اس کو اصلی قیمت سے زیادہ میں خرید وفروخت کرسکتا ہے یا فرض کریں کوئی تیسرا بندہ اس خریدار کے لئے ایک لاکھ ادا کریں تو کیا یہ جائز ہے کہ کہ خریدار نقد ادائیگی کرنے والے شخص کو اصلی قیمت سے زیادہ ادا کریں۔ کیا یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا۔ شکریہ

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149253

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 564-523/B=6/1438



ایک لاکھ کی گاڑی ایک سال کے ادھار پر زیادہ قیمت کے ساتھ دینا درست ہے، ہدایہ میں ہے الا تری أنہ یزاد الثمن لأجل الأجل، بشرطیکہ مجلس عقد میں ایک قیمت طے ہوجائے لیکن اگر تیسرے شخص نے بطور قرض ایک لاکھ روپئے پیش کئے اور خریدار نے لے کر نقد پیسے دئیے یا خریدار کی اجازت سے اس کی طرف سے دیدئیے تو ایسی صورت میں ایک لاکھ سے زیادہ پر ادائیگی کرنا درست نہیں، یہ سود ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات