معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 148463

میں ایک شرعی اسٹاک میں تجارت کررہاہوں، صبح کو شیئر خریدتاہوں اور (اپنی طرف سے رسک لے کر) شام کو یا دو تین دن کے بعد بیچ دیتاہوں، کیا یہ حلال ہے؟نیز میں یہ جو تجارت کررہاہوں وہ مارجن(margin) پر ہے (رقم کا کچھ فیصدمیری طرف سے اور کچھ فیصددلال کی طرف سے ہوتا ہے)اور دلال اپنی دلالی کچھ چارج لیتے ہیں جو اس قرض پر سود نہیں ہے۔ براہ کرم، شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ حلال ہے یا نہیں؟جزاک اللہ

Published on: Feb 16, 2017

جواب # 148463

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 574-609/M=5/1438



جس کمپنی کے شیرز خریدے جائیں وہ کمپنی عملی طور پر کاروبار کررہی ہو، اس کے اثاثے صرف منجمد شکل میں اور محض کاغذی منصوبہ کے مرحلے میں نہ ہوں، نیز کمپنی کی مصنوعات حلال ہوں، حرام نہ ہوں، ایسی کمپنی کے شیرز کو خریدنا اور اس میں حصہ دار بن کر شرکت کرنا درست ہے، آج کل اسٹاک ایکسچینج (شیئرز بازار) کا زیادہ تر مدار فرضی کمپنیوں پر ہے، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا نیز خریدنے والوں کا منشا کمپنی میں حقیقی حصہ درای نہیں ہوتی بلکہ بجائے خود شیرز کومبیع مقصود بنا لیا جاتا ہے ایسی کمپنیوں کی خریدو فروخت جوا اور سٹہ کے دائرے میں آتی ہے اس سے احتراز لازم ہے، آپ نے سوال میں شرعی اسٹاک لکھا ہے اس کیا مراد ہے؟ اور صبح کو خرید کرشام کو بیچ دینے سے کمپنی میں حصہ داری مقصود نہ ہوئی، نیز آپ کی تجارت مارجن پر ہے اس میں کچھ فیصد دلال کی طرف سے ہوتا ہے اس کیا مطلب؟ دلال آپ کے ساتھ کس حیثیت سے ہے؟ پوری صورت حال واضح فرماکر سوال کریں۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات