معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 148002

ہم اپنے شہر کے کسی رائس مل والے سے موبائل پر بات کرکے ان سے ایک ٹرک بھری ہوئی چاول کیلئے سودہ طے کرلیتے ہیں۔ پھر دوسرے شہر بات کرکے کچھ منافع پر فروخت کرتے ہیں۔ اپنے شہر والے رائس مل والے کو کال کرکے کہتے ہیں کہ ہمارے چاول کی ٹرک بھر کر فلاں شہر فلاں آدمی کے نام بھیج دو۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے ؟

Published on: Jan 29, 2017

جواب # 148002

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 461-484/M=4/1438



صورت مسئولہ میں آپ رائس مل والے سے ٹرک بھری ہوئی چاول کا سودا کرنے کے بعد یعنی خریدنے کے بعد اسے خود یا بذریعہ وکیل اپنے قبضہ وتحویل میں لے کر پھر دوسرے کے ہاتھ منافع کے ساتھ فروخت کرسکتے ہیں تاکہ ضرر یا غرر کا اندیشہ نہ رہے اور قبضہ سے پہلے دوسرے سے بیچنا درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات