معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 148001

ٹریکٹر کے شو روم والے کے پاس مال یعنی ٹریکٹر موجود نہیں ہوتا۔ لوگ اس سے سودا طے کرکے مکمل یا کچھ پیسے دے کر ٹریکٹر بک کروا لیتے ہیں۔ جیسے ہی مال آتا ہے تو بقایہ پیسے دے کر ٹریکٹر لیتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے ؟ کیا یہ اس طرح قبل القبض بیچنا نہیں؟ (ٹریکٹر کے شوروم والوں کو شاید کمپنی سے ڈیلرشپ ملی ہوتی ہے ان کے پیسے بھی کمپنی کے پاس شروع سے ایڈوانس میں رکھے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔)

Published on: Jan 25, 2017

جواب # 148001

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 455-481/M=4/1438



شو روم والے کے پاس عقد کے وقت ٹریکٹر موجود نہ ہوتا ہو لیکن اگر سودا طے کرتے وقت ٹریکٹر کے تمام اوصاف متعین ہوجائیں اور ایسی کوئی جہالت باقی نہ رہے جو مُوجبِ نزاع ہو یعنی گاڑی کی کوالٹی، سائز، رنگ وغیرہ تمام چیزیں متعین ہوجائیں اور ثمن مکمل یا کچھ حصہ ادا کردیا جائے تو اس طرح خرید وفروخت کرنا جائز ہے، یہ بیع سلم ہے جس میں مبیع ادھار ہوتی ہے اور ثمن نقد ہوتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات