معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 147856

چار آدمی مل کر ایک ہوٹل چلا نےکا ارادہ ہے ان میں سے تین غیر مسلم ۔اسمیں شراب بھی بیچی جاءے گی کیا میں اس شریک ہو سکتا ہوں

Published on: Jan 31, 2017

جواب # 147856

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 434-426/Sn=5/1438



نہیں۔ جس شرکت کے معاہدے میں یہ بھی شامل ہو کہ اس میں ”شراب“ بھی بیچی جائے گی اس میں کسی مسلمان کا شریک ہونا جائز نہیں ہے، کیوں کہ عقد شرکت میں ہرشریک ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے اور ہرایک کے فعل کی نسبت دوسرے کی طرف ہوتی ہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں مسلمان شرکاء کی طرف بھی شراب کی خرید وفروخت کی نسبت ہوگی اور ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کے لیے شراب کی خرید وفروخت قطعا جائز نہیں ہے۔ وشرطہا إلخ أفاد أن کل صور عقود الشرکة تتضمن الوکالة وذلک لیکون ما یستفاد بالتصرف مشترکا بینہما، فیتحقق حکم عقد الشرکة المطلوب منہ وہو الاشتراک فی الربح إذ لو لم یکن کل منہما وکیلا عن صاحبہ فی النصف وأصیلا فی الآخر لا یکون المستفاد مشترکا لاختصاص المشتری بالمشتری․ (درمختار مع الشامی ۶/ ۴۷۰، ۴۷۴،ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات