معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 147376

کیا ایک دوکاندار کچھ بچوں کے پیپر وغیرہ لے کر اور لفافے بنا کر اس میں کھلونے اور مختلف قسم کی بچوں کے کھانے اور استعمال میں آنے والی اشیاء کی پرچیاں ڈال کر اگر لفافے تیار کریں اور اس پر انعامی پرچیاں یا انعامی لاٹری لکھ کر بیچے، تو کیا یہ کاروبار کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے یا ناجائز؟ (اس میں کسی بھی بچے کو کھالی پوئیاں نہیں ملتی ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے)

Published on: Feb 20, 2017

جواب # 147376

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 428-603/M=5/1438



اگر مقصود لفافے کی خریدو فروخت ہوتو مضایقہ نہیں، جائز ہے ، لیکن اگر خریدو فروخت سے انعام ہی مقصود ہو تو اس میں احتمال اس کا ہوسکتا ہے کہ کچھ بھی نہ نکلے اسی لیے یہ معاملہ لاٹری میں داخل ہوکر ناجائز ہوگا اس لیے انعامی پرچیوں والے لفافے کی خریدو فروخت سے احتراز کیا جائے القمار من القمر الذی یزداد تارةً وینقص أخری، وسمی القمار قماراً، لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ الی صاحبہ ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وہو حرام بالنص۔ (شامی) (کتاب النوازل: ۱۱/۴۳۲) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات