معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 147359

سوال: بندہ کے پاس ایک گھر ہے جس کے موجودہ قیمت تقریباً سات کروڑ روپے ہے اور اس پر جو سالانہ اخراجات ہوتے ہی ہیں ان کو ادا کرنے کے بعد کم و بیش پچیس لاکھ روپے سالانہ کرایہ آجاتا ہے . اب ایک اپنی رہائش کے لئے گھر بنانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ، اس کے لئے اپنے دو بھائیوں سے درج ذیل معاملہ کرنے کا سوچ رہا تھا. صورت پر غور فرما کر حکم شرعی واضح فرما دیں اور اگر کوئی قباحت ہو تو اس سے بچنے کی شکل بھی بتا کر ممنون فرمائیں۔خیال ہے کہ گھر کے ساتویں حصے کے بیس اسہام پانچ پانچ لاکھ میں بھائیوں کو بیچ دوں، اور اس طرح ہر سال کی آمدنی میں سے ساتواں حصہ ان بیس اسہام کے مالکان میں تقسیم کیا جائے ، اس دوران میں جیسے جیسے میرے پاس رقم آئے میں یہ اسہام واپس خریدتا رہوں، اب واپسی کی خرید کی ایک شکل یہ ہے کہ ہر سہم کی قیمت پانچ لاکھ ہی رہے اور دوسری یہ کہ ہر چھ ماہ یا سال کے ختم پر دوبارہ گھر کی قیمت لگا کر بیس اسہام کو گھر کا ساتواں حصہ گردانا جائے اور ہر سہم کی قیمت خرید کل گھر کی قیمت کے ساتویں حصے کا بیسواں حصہ قرار دیا جائے ، اور اس حساب سے اسہام واپس خریدوں۔جزاکم اللہ خیراً۔

Published on: Feb 20, 2017

جواب # 147359

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 378-640/M=5/1438



جس گھر کو آپ فروخت کرنا چاہتے ہیں اگروہ آپ کا ذاتی مکان ہوتو اس کو بیچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ گھر کے جس حصے کو فروخت کرنا چاہتے ہوں وہ متعین ہو، اسی طرح جس حصے کے بیس اسہام کرنے ہیں وہ بھی متعین اور الگ ہونا چاہئے صرف اجمالی طور پر ایک حصے کے بیس اسہام کردینا کافی نہیں ہوگا، اگریہ شرائط پائی جائیں تو آپ اپنے بھائیوں کے ہاتھ فروخت کرسکتے ہیں، اور فروختگی کے بعدآپ کے بھائی اُن خریدے گئے حصص کے مالک ہوجائیں گے ، پھر ان کی رضامندی کے بغیر یہ فروخت کردہ حصص آپ نہیں خرید سکتے ، ہاں اُن سے اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ حصص فروخت کرنے ہوں تو میرے ہاتھ فروخت کرنا، اس کے بعد بھی آپ کے بھائیوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ ہی کے ہاتھ فروخت کریں، بلکہ انہیں مکمل اختیار ہے جب چاہیں، جس کے ہاتھ چاہیں، جتنی رقم پر چاہیں فروخت کریں، یا فروخت ہی نہ کریں، آپ انہیں کسی امر پر جبر نہیں کرسکتے ، علاوہ ازیں اِن حصص کو خریدنے کے بعد بھائیوں پر یہ ضروری بھی نہیں کہ وہ اپنے حصص کو سابقہ طریقہ پر کرایہ پر لگائیں بلکہ انہیں اِس سلسلے میں کلی اختیار ہوگا۔ اگروہ چاہیں تو اپنے حصے کو علیحدہ کرنے کا تقاضہ بھی کرسکتے ہیں، اور ان کے تقاضے کی رعایت شرعاً آپ پر ضروری ہوگی۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات