معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 146624

ہم اگر کار نقد پورا پیسہ دے کر لیں تو انکم ٹیکس کے جھمیلے کا ڈر ہے اور وہی اسے بینک سے لون پر لیں تو اس مصیبت سے بچ جائیں گے اور یہ کار مجھے (uber, ola) میں تجارت کے حساب سے لینی ہیں تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
براہ کرم بتائیں۔

Published on: Jan 5, 2017

جواب # 146624

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 330-345/M=4/1438



 



بینک سے لون لے کر کار خریدنے کی صورت میں انکم ٹیکس کی مصیبت سے تو بچ جائیں گے لیکن سود دینے کی خرابی سے نہیں بچ پائیں گے جب کہ سود سے بچنا بھی اہم ہے اس لیے لون لینے کے بجائے اگر یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ بینک والا کمپنی سے کار پہلے خود خریدلے اوراس پر جس قدر وہ منافع لینا چاہے اس کو کار کی قیمت میں شامل کرلے چاہے وہ اسے سود کا نام دے لیکن آپ اسے کار کی قیمت سمجھ کر قسطوں پر خریدلیں اور ادائیگی کی قسطیں متعین کرلیں، آپ بینک والے کو خریدنے کا وکیل نہ بنائیں بلکہ وہ خود اصیل کی حیثیت سے خریدکر اس پر نفع شامل کرکے آپ کے ہاتھ قسطوں پر بیچ دے اس طریقے پر معاملہ کرنے سے سود سے بچ جائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات