معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 146213

میں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں،ہمارے ادارے نے حال ہی میں ایک ویلفیئر سکیم شروع کی ہے جس کے تحت ہم ملازمین قسطوں پر پلاٹ حاصل کر سکتے ہیں، شرایط میں لکہا ہے کہ اگر دوران سکیم آپ کی وفات واقع ہو جاے تو کمپنی آپکی جمع شدہ رقم اور پلاٹ آپکی فیملی کو (بطور ہدیہ) واپس کرے گی،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سکیم میں حصہ لینا جائز نہیں ، کیوں کہ یہ بہی انشورنس کی طرح حرام و ناجائز ہے ، آپ سے گزارش ہے کہ براہ کراس سارے معاملے پر زرا تفصیل سے روشنی ڈال کر عنداللہ ماجور ہوں، مزید برآں اس کی بہی وضاحت فرما دیں کہ کیا اس طرح قسطوں پرپلاٹ کی خریدوفروخت شرعاجائز ہے جہاں زمین کی لوکیشن(جائے وقوع) اور آپ کا پلاٹ 3 سے 5 سال تک الاٹ ہوتا ہے جبکہ قسط 3 سال پہلے سے شروع ہو جاتی ہے ۔جزاک اللہ

Published on: Jan 7, 2017

جواب # 146213

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 155-266/Sn=4/1438



 



مذکور فی السوال ”اسکیم“ کے تحت پلاٹ کی خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہاں معاملہ کے وقت مبیع یعنی پلاٹ مجہول؛ بلکہ معدوم ہے؛ اس لیے کہ پلاٹ کی تعیین قسط شروع ہونے سے کافی بعد ہوگی، جب کہ حدیث میں ”شئ معدوم“ کی خرید فروخت کی ممانعت آئی ہے، نیز یہ معاملہ ”سود“ پر مشتمل ہے؛ اس لیے کہ معاہدے میں یہ بھی طے ہوتا ہے کہ اگر معاہدہ کرنے والا ملازم دوران اسکیم وفات پاجائے تو اسے جمع کردہ پوری رقم نیز پلاٹ بھی کمپنی واپس کرے گی، ظاہر ہے کہ یہ ”سود“ ہے اگرچہ نام اس کا ”ہدیہ“ رکھا جائے، اسی طرح اس اسکیم میں ”غرر“ کا پہلو بھی ہے۔ الغرض اس اسکیم میں متعدد قباحتیں ہیں؛ اس لیے اس کے تحت پلاٹ کی خرید وفروخت کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات