معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 146161

میں کسی کے ساتھ پارٹنر شپ میں ہوں اور ہم نفع و نقصان میں برابرکے شریک ہیں، دونوں کام کرنے والے پارٹنر ہیں، لیکن میرا پارٹنر کام میں برابر کوشش نہیں کرتاہے بلکہ وہ بزنس میں صرف پچیس پرسینٹ وقت دیتاہے، جیسے کام کو بوجھ بڑھا تو میں نے تنہا ہی سارا کام کیا اور اس کے بارے میں شروع میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیاتھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی ہم شریک کے درمیان برابر ی سے نفع تقسیم ہوگا؟

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 146161

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 131-234/B=3/1438



 



جی ہاں اب بھی شرکاء کے درمیان برابری کے ساتھ ہی نفع کی تقسیم ہوگی، اگر آپ اس میں کچھ رد و بدل کرنا چاہتے ہیں تو نفع کی شرکاء کے مابین تقسیم کو لینے کے بعد آئندہ کے لیے شرکت کے طریقہ کار تبدیل کر سکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات