معاملات - بیع و تجارت

Pakistan

سوال # 145890

زید نے آن لائن کپڑوں کی خریداری صرف کپڑوں کی تصاویر دیکھ کر کی, جب کپڑے گھر پہنچے تو ایسا معلوم ہوا کہ مقامی مارکیٹ کی بنسبت کافی مہنگے داموں پڑے ہیں, اب جس قیمت پر زید کو پڑے ہیں, کیا اسی قیمت کا اعتبار کر کے ان کپڑوں کو بطور زکوة دے سکتا ہے یا نہیں؟دکاندار نے کورئیر سروس کے ذریعے کپڑے بھیجے ہیں،اور کہا ہے کہ سروس کے پیسے میں نے اس قیمت میں نہیں وصول کیے حالانکہ غالب گمان ہے کہ وہ اس نے وصول کر لیے ہوں گے ,تو کیا زکوة ادا کرتے وقت اس سروس کی قیمت الگ کی جائے گی یا نہیں؟

Published on: Nov 23, 2016

جواب # 145890

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 122-134/L=2/1438



زکوٰة ادا کرتے وقت ان کپڑوں کی جو بازاری قیمت ہوگی، اس قیمت کے اعتبار سے زکوٰة کاحساب لگایا جائے گا، جس قیمت پر آپ نے خریدا ہے اس کا اعتبار نہیں ہوگا، اور نہ الگ سے کورئیر کی رقم ا س میں شامل کی جائے گی پس اس کپڑے کی جو بازار میں ویلو ہے کپڑے سے زکوٰة ادا کرنے کی صورت میں صرف اتنی مالیت کی زکوٰة ادا ہو جائے گی۔ وذکر محمد فی الرقیات: أنہ یقوم فی البلد الذي حال الحول علی المتاع بما یتعارفہ أہل ذلک البلد نقداً فیما بینہم یعنی غالب نقد ذلک البلد، ولاینظر إلیٰ موضع الشراء ولا إلیٰ موضع المالک وقت حولان الحول۔ (التاتارخانیہ: ۳/۱۶۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات