معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 131126

ممبئی میں بہت سے بکرے بیچنے والے کلو کے حساب سے بکرے بیچتے ہیں یعنی خریدنے سے پہلے ریٹ طے ہوجاتاہے، مثال کے طورپر فی کلو 450روپئے پڑتے ہیں اور بکرے کا کل وزن پچاس کلو ہے تو بکرے کا فائنل ریٹ 22500روپئے ہوا، مگر بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ پہلے سے طے شدہ کلو کے حساب سے ریٹ پر بکرے خریدنا یا بیچنا حرام ہے۔براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Oct 26, 2016

جواب # 131126

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1114-900/D=01/1438



بعض علماء نے وزن کرکے بکرے کی بیع کو جائز قرار دیا ہے۔ دیکھئے فقہ المعاملات: ۱/۱۱۸، پھر بھی بہتر ہے کہ وزن کے ذریعہ ریٹ متعین ہوجانے کے بعد دو بارہ ایجاب و قبول کرلے تاکہ بیع کی صحت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات