Miscellaneous >> Tasawwuf

Question # : 57118

India

(۱) ایک شخص نے کہا کہ اگر کوئی زنا کرلیتاہے تو وہ اللہ کے نبی کے روضہ اقدس (مدینہ ) جاسکتاہے اور کہہ سکتاہے کہ یا رسول اللہ، مجھ سے زنا ہوگیاہے، میری توبہ قبول کرلیجئے اور مغفرت کردیجئے اور پھر اللہ کے نبی اس شخص کی مغفرت کردیتاہے اور پھر اللہ اس شخص کی مغفرت کرتاہے، کیا یہ بات درست ہے؟کیا میں یہ عقیدہ رکھ سکتاہوں؟
(۲) لیکن کسی نے مجھے کہا کہ اگر کوئی اللہ کے نبی سے کہے کہ یا رسول اللہ میرے لیے مغفر کریں تو یہ شرک ہے اور کفر ہے، کیا یہ سچ ہے؟
(۳) ․․․․․․․․․․․․․․
(۴) مجھے خوف خدا کیسے حاصل ہوگا؟
(۵) بہت سارے یا کچھ مسلمان اپنے معاملات میں خوف خدا کیوں نہیں رکھتے ہیں؟

Answer : 57118

Published on: Jan 8, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 242-41/D=3/1436-U

مغفرت کرنا یعنی گناہ معاف کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے اختیارمیں ہے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے مغفرت فرمانے کی دعا اور سفارش کرسکتے ہیں، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی حیات میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کرنے کی دعا کی درخواست کی جاسکتی تھی اور اب آپ صلی اللہ عیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی قبر اطہر کے مواجہ میں یہ درخواست (یعنی اللہ سے مغفرت طلب کرنے کی) کی جاسکتی ہے، یہ شرک نہیں ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہء نسا آیت نمبر ۶۷ میں اس کی صراحت ہے ”وَلَوْ أَنَّھُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَھُمْ جَاء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّھَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّھَ تَوَّابًا رَحِیمًا“ ترمہ: اوراگر جس وقت یہ گناہ کرکے اپنا نقصان کر بیٹھے تھے اس وقت ندامت کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے پھر حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ سے اپنی اس گناہ کی معافی چاہتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آپ بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ کا قبول کرنے والا پاتے۔
آیت مذکورہ کی تفسیر معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں، یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لیے دعائے مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانے میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاوٴں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آکر گرگیا اور زار زار روتے ہوئے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کے لیے دعائے مغفرت فرمادیں اس وقت جو لوگ حاضر تھے ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہٴ اقدس کے اندر سے یہ آواز آئی قد غُفِرَ لک یعنی مغفرت کی گئی۔
(۳-۴) حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا أکثروا ذکر ہاذم اللذات الموت یعنی لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو یا بکثرت اس کا ذکر کیا کرو۔ اللہ کی پکڑ کا مستحضر نہ ہونا، آخرت اورموت سے غفلت خوف خداوندی پیدا نہ ہونے کا سبب ہے، لہٰذا ایسی چیزوں کو یاد کیا جائے جس سے اللہ کا ڈر اور خوف پیدا ہو، مثلاً میدان محشر میں اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے کھڑا ہونا، جہنم کا عذاب، وغیرہ۔
دنیا کی محبت اور غفلت من الآخرة یہ عمومی وجہ ہے خوف خدا نہ ہونے کی۔ کسی متبع سنت شیخ سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں ان شاء اللہ ان کی تعلیم وتربیت کے نتیجہ میں آپ کا مطلوب حاصل ہوگا۔


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question