Miscellaneous >> Others

Question # : 57349

Pakistan

ہم کو آفس میں کاغذات ضائع کرنا پڑتا ہے جس میں اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے نیز اس میں مقدس نام لکھے ہوئے ہوتے ہیں جیسے محمد عرفان، شہاب علی خان وغیرہ وغیرہ۔ میں ان کاغذات اس طرح ضائع کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مکمل نام ہماری ردی میں نہ جائے بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر جائے۔ میرے خیال میں کبھی کبھی یا بہت سی مرتبہ مقدس نام جلدی کی وجہ سے اور نادانستہ طور پرردی میں جاسکتے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں اسلام کاکیا حکم ہے جب کہ نادانستہ طور پر اور جلد ی کی وجہ سے مقدس نام ردی میں چلے جائیں۔

Answer : 57349

Published on: Mar 1, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 418-418/M=4/1436-U

جن کاغذات میں اللہ، محمد وغیرہ لکھا ہوا ہوتا ہے وہ قابل احترام ہیں، اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد بھی اس کی حرمت برقرار رہتی ہے؛ لہٰذااسے ردّی میں نہ ڈالیں؛ بلکہ اس کو پانی میں بہادیں یا پاک جگہ میں دفن کردیں جہاں بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو۔ بساط مصلی کتب علیہ ”الملک للہ“ یکرہ بسطہ والقعود علیہ وعلی ہذا قالوا لا یجوز أن یتخذ قطعة بیاضٍ مکتوبٌ فیہ اسم اللہ تعالی علامة فیما بین الأوراق لما فیہ من الابتذال باسم اللہ تعالی․ ولو قطع الحرف من الحرف أو خیط علی بعض الحروف في البساط أو المصلی حتی لم تبق الکلمة لم تسقط الکراہة وکذلک لو کان علیہا الملک لا غیر وکذلک الألف وحدہ واللام وحدہا کذا في الکبری إذا کتب اسم فرعون أو کتب أبو جہلٍ علی غرضٍ یکرہ أن یرموا إلیہ؛ لأن لتلک الحروف حرمة کذا في السراجیة․ (الہندیة: ۵/۳۲۳،ط: نورانی کتب خانہ)


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question