Transactions & Dealings >> Other Transactions

Question # : 54401

United Arab Emirates

میں دبئی میں اکاؤنٹنگ فرم میں کام کررہا ہوں اور کام کے دوران مجھے گاہکوں سے ملنا پڑتاہے، گاہکوں کے پاس جانے کے لیے میرے مالک نے اخراجات سفر دینے کا وعدہ کیا تھا ، انہوں نے کہا تھا کہ پہلے میٹرو سے جاؤ اورپھر ٹیکسی استعمال کرو ْْْْْجس میں۴۰ درہم خرچ ہوں گے، کیوں کہ وہ صرف اسی روٹ کو جانتے تھے ، دوسری طرف بس کے ذریعہ مجھے دوسرا روٹ معلوم ہوا جس میں صرف دس درہم (ایک طرف)خرچ ہوتے تھے ، ایک خاص کلائنٹ سے ملاقات کرنے میں انہوں نے مجھے دو مرتبہ اسی درہم دئیے ہیں ، میں نے ان کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے فلاں روٹ استعمال کیا ہے اور پیسے بچائے ہیں کوں کہ میں نے سوچا کہ اگر وہ اسی درہم دینے کے لیے تیار ہیں تو میں کیوں نہ پیسے بچاؤں ، اس لئے کہ یہ میری پاکٹ میں جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسے( دس پندرہ، یا پچیس تیس درہم) میرے لیے حلال ہیں؟براہ کرم، قرآن حدیث کی روشنی میں بتائیں۔اس بارے میں مجھے بہت فکر ہے۔ شکریہ

Answer : 54401

Published on: Mar 18, 2017

بسم الله الرحمن الرحيم



Fatwa ID: 518-518/M=6/1436-U



مالک نے چونکہ آپ کو درہم سفر خرچ کے لیے دیا ہے؛ لہٰذا سفر میں جس قدر درہم خرچ ہوکر زائد جو بچ جائے وہ مالک کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھ لینا صحیح نہیں ہے۔ عن أپی حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظملوا، ألا! لا یحل مال امرءٍ إلا بطیب نفس منہ․ رواہ البیہقي، في شعب الإیمان، (مشکاة المصابیح: ۲۵۵، باب الغصب والعاریة، ا لفصل الثانی، قدیمی)




Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question