Social Matters >> Education & Upbringing

Question # : 57173

India

میری کوئی اولاد نہیں ہے، اس لیے میں نے چھوٹے بھائی کی مرضی سے ان کی بیٹی کو گود لیا ہے، اب مقامی سنی علماء کہتے ہیں کہ میں اس گود لی ہوئی بیٹی کو اپنا نام نہیں دے سکتااور اس کے سرٹیفیکیٹ اور دوسرے کاغذات میں جہاں ولدیت کا خانہ ہو اس میں اس کے والد کا ہی نام ہوناچاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنا نام لکھتاہوں تو اس (بیٹی ) کے تمام اعمال جیسے نماز ، روزہ اور حج وغیرہ عند اللہ قبول نہیں ہوں گے۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔

Answer : 57173

Published on: Jan 10, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 251-248/B=3/1436-U

آپ اپنی گود لی ہوئی بیٹی کی پرورش کریں گے، اسے کھلائیں پلائیں گے،کپڑے پہنائیں گے تعلیم دلائیں گے، اس کی شادی اس کے باپ کی اجازت سے کریں گے، یہ سب بہت بڑی خدمت ہے،اس کا بے انتہا اجر وثواب اللہ کے یہاں ملے گا، جنت میں آپ کو اعلی مقام عطا فرمائے گا، لیکن اگر آپ اس بیٹی کا نسب بدل کر اپنی طرف منسوب کریں یعنی اپنی بیٹی لکھیں یا لکھوائیں تو اس ولدیت کے بدلنے پر بہت بڑا گناہ آپ کو ملے گا، ایسے نسب بدلنے والے کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے، اس لیے اللہ سے ڈریں اہل سنت والجماعت علماء نے آپ کی صحیح رہنمائی فرمائی ہے۔


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question