Social Matters >> Education & Upbringing

Question # : 57159

Malawi

میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ ایک مدرسہ میں امتحان کا نظام اس طرح ہو کہ ایک درجہ کے طلبہ کا امتحان مختلف اساتذہ لیں تو یقینی طورپر ہر استاذ کی طرف سے الگ الگ نمبر ہوگا تو کیا سب کے نمبرات کو ملا کر پوزیشن دینا ٹھیک ہے؟جب کہ ہر طالب علم کا امتحان ایک استاذ نے نہ لیا ہو؟
اگر مثال کے طورپر نامناسب طریقے سے امتحان لیا گیااور انتظامیہ اسے قبول کرلے تو کیا طالب علم کو یہ حق ہے کہ وہ نتیجہ کو کالعد م مانے اور اس میں ترمیم کرنے کی مانگ کرلے ؟کیا اس کواہانت سمجھا جائے گا؟اگر پورا نظام ہی غیر مناسب /نادرست ہو تو کیا حکم ہوگا؟

Answer : 57159

Published on: Jan 11, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 287-289/L=3/1436-U

(۱) (۲) یہ بھی امتحان لینے کا ایک رائج طریقہ ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اسکا تعلق انتظام سے ہے یہ شرعی چیز نہیں ہے؛ البتہ ہرممتحن پر اپنے اعتبار سے طالب علم کی لیاقت کے مطابق نمبر دینا ضروری ہے، ممتحن کا مستحق کو کم اور غیر مستحق کو زیادہ نمبر دینا خیانت ہے، اگر امتحان نامناسب طور پر ہواہو اور انتظامیہ بھی اسے قبول کرلے تو طالب علم کو حدود میں رہتے ہوئے نتیجہ کو کالعدم ماننے اوراس میں ترمیم کرنے کی مانگ کرنا درست ہوگا، یہ اہانت میں داخل نہ ہوگا بشرطیکہ حدود کی رعایت اساتذہ کا احترام ملحوظِ خاطر ہو، اور اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو، اوراگر ترمیم کا مطالبہ کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہو یا قوی امید ہو کہ اس مطالبہ کا کوئی اثر نہ ہوگا تو صبر سے کام لینا اور خاموش رہنا ہی بہتر ہوگا، ایسے وقت میں جذباتی ہوجانا مضر ثابت ہوسکتا ہے۔


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question